بنگلورو، 7؍جون (ایس او نیوز) کرناٹک میں پورے ملک کی طرح روزانہ کورونا کی صورتحال میں سدھا آرہا ہے۔ نئے معاملوں کی تعداد میں کمی کے ساتھ ساتھ صحت یاب ہونے والوں کی تعد اد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے ہفتہ کے روز ہی اعلان کیا تھا کہ پازیٹیویٹی کی شرح اگر 5 فیصد سے کم ہو جائے تو ان اضلاع میں لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں نرمی لانے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ اب ریاست کے بیشتر اضلاع میں صورتحال کافی حد تک سدھرتی جارہی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ریاست کی راجدھانی بنگلورو میں غیر معمولی سدھار آیا ہے۔ کرناٹک میں مجموعی پازیٹیویٹی شرح کا اگر جائزہ لیا جائے تو وہ اب بھی 10.46 فیصد پر برقرار ہے لیکن بنگلورو میں یہ گھٹ کر 5.75 فیصد ہوگیا ہے۔ ریاست کے تین چار اضلاع ہی ہیں جہاں یہ شرح 5 فیصد سے کم ہے ان میں بیدر، کلبرگی ، ہاویری اور بنگلورو اربن شامل ہیں۔
کرناٹک میں روزانہ ایک لاکھ کے اوسط سے کووڈ ٹسٹنگ کی جارہی ہے۔ اس کے نیتجے میں سامنے آنے والے تازہ کیسوں کی تعداد میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد سے مسلسل کمی آرہی ہے۔ اتوار کو یہ تعداد 13 ہزار کے آس پاس رہی ۔ شہر کے جئے دیوا انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سی این منجوناتھ کے مطابق کرناٹک میں کورونا کیسوں کی تعداد میں کمی کا رجحان ملک کی دیگر ریاستوں سے مختلف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تشویش کا سبب ریاست کے دیہی علاقے ہیں جہاں پازیٹیو یٹی شرح اب بھی کافی زیاد ہے۔
حال ہی میں ریاستی حکومت کی ٹیکنیکل اڈوائزری کمیٹی نے حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ جن اضلاع میں اوسط 5 فیصد سے کم ہوجائے وہاں پابندیوں میں نرمی برتی جائے اب چونکہ بنگلورو سمیت چار پانچ اضلاع میں کافی سدھا آیا ہے حکومت اس امکان کا جائزہ لینے میں لگی ہوئی ہے کہ ان اضلاع میں نافذ لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں نرمی کس طرح برتی جائے۔
بتایا جاتا ہے کہ پیر کے روز وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا اس سلسلہ میں ماہرین سے ایک اور دور کی بات چیت کریں گے اور اس کے علاوہ اپنے کابینی رفقا سے مشورہ کرنے کے بعد لاک ڈاؤن کے بارے میں حکومت کے موقف کی وضاحت کریں گے۔